Wednesday, 19 January 2022

کتنی مشکل سے تقاضا پس گفتار کھلا

 کتنی مشکل سے تقاضا پسِ گفتار کھلا

تب کہیں یہ مِرا پیرایہِ اظہار کھلا

کون وارد ہوا بستی میں کہ سب سوداگر

چھوڑ کے آئے ہیں بازار کا بازار کھلا

اے مِرے دشت نوردو، تھے کہاں پر یارو

جب سرِ دشت کہیں سایہِ اشجار کھلا

مجھ کو دکھ اس کا نہیں کس نے مجھے چھوڑ دیا

دکھ تو یہ ہے مِرا رونا، پسِ دیوار کھلا

جو اذیت تھی چلی آئی ہمارے حق میں

جوں ذرا عشق کا کچھ دائرۂ کار کھلا

جن کی ہجرت سے لپٹ آئے مِرے شہر کی یاد

ایسے لوگوں کے لیے رکھتا ہوں گھر بار کھلا

تب گلے اس کو لگایا تھا سہولت کے لیے

سوز جب کر نہ سکا، میرا عدو، وار کھلا


حمزہ ہاشمی سوز

No comments:

Post a Comment