سکوت، سناٹا اور دیوار
اس گلی کی وہ اونچی حویلی
حویلی کے چاروں طرف دور تک ان گنت راستے
راستوں کے ہر اک موڑ پر، آشنا لوگ
لوگوں کے چہروں پہ پھیلی ہوئی شفقتیں
شفقتوں کی فضا میں مرے دل کا وہ بھیگنا
ہاں، یہی ہیں مرے ہاتھ سے پھسلے لمحے
جو تصویر ہوتے نہیں
ہمارے بعد افسردہ رہی وہ رہگزر
اور رہگزر بھی کیا
ہمارے ساتھ ہی پل کر جواں ہوتا ہوا اک زعم
ان راہوں پہ (جو اک دور میں ہم سے شناسا تھیں)
اچانک بے وجہ ہارا، دوبارہ ہار کر ٹوٹا
ہماری آنکھ کی پتلی میں دم توڑا
بہت عرصہ ہماری آنکھ پر خاموشیاں چھائیں
دھنک سے رنگ اب ناسور ہیں ایسے
کبھی جو بھر نہ پائیں گے
بلا کی غم پسندیاں یا صبر تھا یا جبر تھا
کہ زردیاں نصیب کی کھنڈی پڑی تھیں گام گام
پھر کسی امید نے گلاب یوں کھلا دئیے
کہ ایک عمر کٹ گئی
یہ خوشگوار حادثہ ہوا
کہ وہ سفر جو تیرے نقشِ پا کی دھول ہی سے
ایک سنگ میل تھا
سہولتوں سے کٹ گیا
نہیں ہے کوئی خوف اب
نہ دل میں رہ گئی کسک
جو یہ تمام سلسلے بجھا سکے
نہ دل میں کوئی ہوک
جو کبھی کوئی بلا کا حشر اٹھا سکے
آئلہ طاہر
No comments:
Post a Comment