Saturday, 8 January 2022

خود کو باہر دھر جاتا ہوں

 خود کو باہر دھر جاتا ہوں

جب میں اپنے گھر جاتا ہوں

تنہائی دُلہن ہوتی ہے

جب میں بستر پر جاتا ہوں

روز گلاب پڑا ملتا ہے

جس رستے سے گھر جاتا ہوں

ہر در پر کشکول پڑا ہے

میں جس کے بھی گھر جاتا ہوں

دن بھر جیون سے لڑتا ہوں

شب کو تھک کر مر جاتا ہوں


انصر جاذب

No comments:

Post a Comment