Saturday, 8 January 2022

میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا

 میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا

جو ٹوٹی پھوٹی سی کشتیوں کو چلا رہا تھا

تمہارے جانے کے بعد بالکل ہنسا نہیں میں

شکستہ پا ہو کے اپنے اندر کو کھا رہا تھا

وہ بند کمرے میں میری یادیں پرو رہی تھی

میں بزمِ امکاں سے خواب جس کے اٹھا رہا تھا

مِری نِگہ میں یہ ایک منظر رکا ہوا ہے

کہ ایک صحرا تھا، اور دریا بنا رہا تھا

وہ تیرے آنے کی تھی خوشی کہ عتیق احمد

جو گھر میں قیدی تھے سب پرندے اڑا رہا تھا


عتیق احمد

No comments:

Post a Comment