Saturday, 8 January 2022

ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

 ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

تنا رہے گا اداسی کا شامیانہ کیا؟

میں چاہتا ہوں تکلف بھی ترک کر دو تم

نہیں ہیں اب وہ مراسم، تو آنا جانا کیا

تمام تیر و تبر کیا مِرے لیے ہی ہیں؟

مجھی پہ لگنا ہے دنیا کا ہر نشانہ کیا

انہیں کو چیر کے بڑھنا ہے اب کنارے پر

اتر گئے ہیں تو لہروں سے خوف کھانا کیا

یوں اپنی ذات کے در پر کھڑے ہو کب سے تم

کہ اپنے گھر بھی ہے آواز دے کے جانا کیا


آلوک مشرا

No comments:

Post a Comment