میں اپنی خاک کو جب آئینہ بناتا ہوں
تو اس کے واسطے دل بھی نیا بناتا ہوں
ہر اک پرند رہے تا ابد یہاں شاداب
اسی لیے میں شجر بھی ہرا بناتا ہوں
بھٹک نہ جائے کہیں شہرِ غم میں اپنا دل
سو تیرے خواب کو میں رہنما بناتا ہوں
کرے نہ کیوں یہ تِرے دل میں گھر مِرے ہمدم
میں اپنے شعر کو درد آشنا بناتا ہوں
میں پہلے بھرتا ہوں اس دل میں وحشتیں اور پھر
سوادِ دشت کو بھی ہمنوا بناتا ہوں
تلاش کرتی ہیں خود منزلیں جسے احمد
میں دشتِ شوق میں وہ راستہ بناتا ہوں
عتیق احمد
No comments:
Post a Comment