Friday, 7 January 2022

میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں

 میں اپنی خاک کو جب آئینہ بناتا ہوں

تو اس کے واسطے دل بھی نیا بناتا ہوں

ہر اک پرند رہے تا ابد یہاں شاداب

اسی لیے میں شجر بھی ہرا بناتا ہوں

بھٹک نہ جائے کہیں شہرِ غم میں اپنا دل

سو تیرے خواب کو میں رہنما بناتا ہوں

کرے نہ کیوں یہ تِرے دل میں گھر مِرے ہمدم

میں اپنے شعر کو درد آشنا بناتا ہوں

میں پہلے بھرتا ہوں اس دل میں وحشتیں اور پھر

سوادِ دشت کو بھی ہمنوا بناتا ہوں

تلاش کرتی ہیں خود منزلیں جسے احمد

میں دشتِ شوق میں وہ راستہ بناتا ہوں


عتیق احمد

No comments:

Post a Comment