عرفان خان کے لیے ایک نظم
میری ہتھیلی پر لکیروں کی جگہ
عیسیٰ کا معجزہ نقش ہوتا
تو میں تمہارے اندر پھر سے
زندگی کی رمق پھونک دیتا
اور موت کو کسی پرانے کپڑے میں باندھ کر
برمودہ ٹرائی اینگل میں پھینک دیتا
جہاں سے چاہ کر بھی وہ تم تک نہ پہنچ پاتی
تمہیں معلوم ہے؟
تمہاری موت کا سکرِپٹ لکھنے کے بعد
لکھاری بہت دیر تک اداس بیٹھا رہا
مگر وہ بخوبی جانتا تھا
کہ
اگر مرکزی کردار کے مر جائے تو
کہانی سُپرہِٹ ہوتی ہے
تمہیں پردے پر دیکھ کر مسکرانے والے
اب کئی کئی روز
اداسی کو گلے لگا کر
تمہاری باتیں کرتے ہیں
تمہاری موت کا سِین تماش بینوں کی
خوشیاں بانجھ کر گیا
ہدایتکار ناخنوں سے اپنا منہ نوچ رہے ہیں
کہ
ہارر مووی کا رومانوی کردار مر گیا
ذیشان راٹھور
No comments:
Post a Comment