Sunday, 16 January 2022

ہمیشہ زندگی کی ہر کمی کو جیتے رہتے ہیں

 ہمیشہ زندگی کی ہر کمی کو جیتے رہتے ہیں

جسے ہم جی نہیں پائے اسی کو جیتے رہتے ہیں

ہمارے دکھ کی بارش کو کوئی دامن نہیں ملتا

ہماری آنکھ کے بادل نمی کو جیتے رہتے ہیں

کسی کے ساتھ ہیں رسمیں کسی کے ساتھ ہیں قسمیں

کسی کے ساتھ جینا ہے، کسی کو جیتے رہتے ہیں

ہمیں معلوم ہے اک دن بھروسہ ٹوٹ جائے گا

مگر پھر بھی سرابوں میں ندی کو جیتے رہتے ہیں

ہمارے ساتھ چلتی ہے تمہارے پیار کی خوشبو

لگائی تھی جو تم نے اس لگی کو جیتے رہتے ہیں

چہکتے گھر، مہکتے کھیت اور وہ گاؤں کی گلیاں

جنہیں ہم چھوڑ آئے ان سبھی کو جیتے رہتے ہے

خدا کے نام لیوا ہم بھی ہیں تم بھی ہو اور وہ بھی

مگر افسوس، سب اپنی خودی کو جیتے رہتے ہیں


آلوک شریواستو

No comments:

Post a Comment