تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈتی رہی
میں شہر ننگ میں بھی ردا ڈھونڈتی رہی
وہ تتلیوں میں مست بہت مطمئن سا تھا
جس کو چمن میں میری صدا ڈھونڈتی رہی
رُت کی طرح مزاج بدل کر چلا گیا
وہ بے وفا تھا اس میں وفا ڈھونڈتی رہی
تخت منافقت پہ وہی حکمران تھا
بہر خلوص جس کو سدا ڈھونڈتی رہی
جوش جنوں کے ہاتھ جسے دان کر چکی
پھر میں ضرورتاً وہ انا ڈھونڈتی رہی
دل پر لگے جو زخم کہاں مندمل ہوئے
میں شہر شہر پھرتی دوا ڈھونڈتی رہی
بستی میں ایک بھی نہ وفادار مل سکا
میں در بدر بھٹکتی وفا ڈھونڈتی رہی
سیل بلا بھنور میں جہاں چھوڑ کر گیا
میں ناخدا کے ساتھ خدا ڈھونڈتی رہی
دیوار دل سے میری چرا کے وہ لے گیا
جگمگ سی روشنی وہ دیا ڈھونڈتی رہی
میری ہتھیلیوں پہ رچے زخم زخم رنگ
بانو میں ان میں بوئے حنا ڈھونڈتی رہی
صائمہ بانو بخاری
No comments:
Post a Comment