پلکوں سے لپٹا خواب
یہ مفلس پربتوں کے شہر بھی آباد لگتے ہیں
جو موسم بانجھ تھے وہ بھی
پلٹتے ہیں پہاڑوں پر
کسی گُلریز ساعت میں
عقوبت خانوں کی زینت
وطن کے نام لیوا
ناچتے ہیں گردشوں میں
گردشوں کو بھول جاتے ہیں
کبھی پنجاب کا اِک ڈھولچی لَے کو بڑھاتا ہے
توکّل مست ہو کر ہیر وارث شاہ گاتا ہے
محافظ، پانیوں کی لہر پہ چپو چلاتا ہے
کہ ہم بستہ و پیوستہ سی جنبش تاؤ کھاتی ہے
کسی دُشمن کی چالوں پر
اُترتی ہے محبت کے دلوں پر روشنی
رحمان بابا کی
کبھی چکوال کے گھوڑے فضا کو چیرتے ہیں
اور پولو کے لیے شندور جاتے ہیں
کبھی پنجابیوں کی گردنیں اجرک سجاتی ہیں
کبھی چیری زیارت کی لبوں کو سُرخ کرتی ہے
کبھی لوہڑی کا جھومر سندھ کی جھولی میں جاتا ہے
صوابی کے ملنگوں کی دھمالوں سے کبھی سیہون دھڑکتا ہے
کبھی سچل ہمالہ مست ہوتا ہے
زمانہ ہوش کھوتا ہے
یہ سنتو، دیوتا کے روپ میں درویشِ کامل ہے
جو خوشحالی کی فصلوں کو اُگاتا ہے
مٹھاس اپنی یہ کھارے پانیوں میں گھول جاتا ہے
کوئی دلدل تعصب کی نہیں باقی
کسی برگد تلے گوتم توجہ کا کوئی تکیہ لگاتا ہے
شہِ لولاک کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا ہے
عرفان شہود
No comments:
Post a Comment