Sunday, 16 January 2022

عشق کو آسان سمجھتے ہو میاں

 عشق کو آسان سمجھتے ہو میاں

کتنے ہو نادان سمجھتے ہو میاں

دے رہے ہو دھوکے جو تم اوروں کو

اس کا ہے نقصان سمجھتے ہو میاں

کرنا اسے پانے کی خواہش میں بھی

خود ہی کو قربان سمجھتے ہو میاں

اور خودی سے بڑھ کر اسے چاہنا

دل کے تم ارمان سمجھتے ہو میاں

مانگ رہے بھیک ہو در در جو تم

انساں کو یزدان سمجھتے ہو میاں

بات ذرا سی پہ بھڑک جاتے ہو

قلتِ ایمان سمجھتے ہو میاں

اک میں خلق دوسرے میں ہے خدا

ان دو میں میزان سمجھتے ہو میاں

تم نے بھی حارث جہاں پامال کیا

کیا خاک تم گیان سمجھتے ہو میاں


حارث علی

No comments:

Post a Comment