عشق کو آسان سمجھتے ہو میاں
کتنے ہو نادان سمجھتے ہو میاں
دے رہے ہو دھوکے جو تم اوروں کو
اس کا ہے نقصان سمجھتے ہو میاں
کرنا اسے پانے کی خواہش میں بھی
خود ہی کو قربان سمجھتے ہو میاں
اور خودی سے بڑھ کر اسے چاہنا
دل کے تم ارمان سمجھتے ہو میاں
مانگ رہے بھیک ہو در در جو تم
انساں کو یزدان سمجھتے ہو میاں
بات ذرا سی پہ بھڑک جاتے ہو
قلتِ ایمان سمجھتے ہو میاں
اک میں خلق دوسرے میں ہے خدا
ان دو میں میزان سمجھتے ہو میاں
تم نے بھی حارث جہاں پامال کیا
کیا خاک تم گیان سمجھتے ہو میاں
حارث علی
No comments:
Post a Comment