ہو جائیں زرا اس کے سوالات مکمل
پھر میں بھی اسے دوں گا جوابات مکمل
کرتا ہوں وہ کام، جو دُشوار بہت ہوں
ہوتی ہیں یونہی میری مہمات مکمل
پرکھوں گا خلوص اس کا تسلی سے کبھی میں
کر تُو بھی تعلق کی شروعات مکمل
آنکھوں کے دریچے بھی اُگل دیتے ہیں کچھ بھید
پوشیدہ کہاں رہتے ہیں جذبات مکمل
پہچان کہاں بنتا ہے رسمی سا تعلق
جب تک کہ نہ ہو جائیں حجابات مکمل
جزوی سا ملا کرتا ہے گاہے سرِ راہے
ہوتی تھی کبھی دل سے ملاقات مکمل
نفرت بھی کیا کرتا ہے باالقسط جو سورج
کب کیا دے گا تجھے درد کی سوغات مکمل
صدیق سورج
No comments:
Post a Comment