Thursday, 6 January 2022

ہو جائیں زرا اس کے سوالات مکمل

 ہو جائیں زرا اس کے سوالات مکمل

پھر میں بھی اسے دوں گا جوابات مکمل

کرتا ہوں وہ کام، جو دُشوار بہت ہوں

ہوتی ہیں یونہی میری مہمات مکمل

پرکھوں گا خلوص اس کا تسلی سے کبھی میں

کر تُو بھی تعلق کی شروعات مکمل

آنکھوں کے دریچے بھی اُگل دیتے ہیں کچھ بھید

پوشیدہ کہاں رہتے ہیں جذبات مکمل

پہچان کہاں بنتا ہے رسمی سا تعلق

جب تک کہ نہ ہو جائیں حجابات مکمل

جزوی سا ملا کرتا ہے گاہے سرِ راہے

ہوتی تھی کبھی دل سے ملاقات مکمل

نفرت بھی کیا کرتا ہے باالقسط جو سورج

کب کیا دے گا تجھے درد کی سوغات مکمل


صدیق سورج

No comments:

Post a Comment