Monday, 10 January 2022

اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگی

 اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگی

اس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگی

یوں رونما ہوئے مِرے حالات میں تضاد

گلشن کبھی تھی،۔ آج بیاباں ہے زندگی

اس شخص کا بھی آج مقدر سنور گیا

لکھا تھا جس کے در پہ پریشاں ہے زندگی

گھر بیٹھنے سے مل نہ سکے گا کوئی سراغ

عزم و عمل کی راہ میں پنہاں ہے زندگی

کیوں زندگی کی مجھ کو دعا دے رہے ہیں آپ

میرے لیے تو موت کا ساماں ہے زندگی

دو چار دن میں غم سے ملے گی ہمیں نجات

دو چار دن کی اور یہ مہماں ہے زندگی

اعجاز!۔۔ کوئی پوچھنے والا نہیں یہاں

اردو کی طرح بے سر و ساماں ہے زندگی


اعجاز انصاری

No comments:

Post a Comment