عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہو گا سرکار کے قدموں میں ٹھکانہ دل کا
ان کو بھا جائے اگر نعت سنانا دل کا
آپ کے ہوتے ہوئے غیر سے الفت رکھے
ایسا دل پانے سے اچھا ہے نہ پانا دل کا
گنبد سید عالمﷺ پہ نطر پڑتے ہی
دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دل کا
یہ ہنساتا ہے کبھی اور رلاتا ہے کبھی
یاد آقاﷺ میں ہے انداز یگانہ دل کا
آج تک کوچۂ سرکارﷺ میں میرا نہ سہی
پھر بھی گزرا ہے وہاں ایک زمانہ دل کا
عالمِ جذب میں آداب بھی ملحوظ رہے
اتنا آساں نہیں طیبہ سے لگانا دل کا
در و دیوار تڑپ جائے، صبا رونے لگے
انﷺ کے عشاق سنائیں جو فسانہ دل کا
عاشقِ حسنِ نبیﷺ کو نہ لبھا حسنِ جہاں
غیر ممکن ہے ترے حسن پہ آنا دل کا
چھیڑتا ہے تری سازِ رگِ جاں کو فردوس
انﷺ کے دیدار سے پھولے نہ سمانا دل کا
فردوس فاطمہ اشرفی
No comments:
Post a Comment