عارفانہ کلام نعتیہ کلام
خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی
دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی
انؐ کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی
میں نہ جاوں گا کہیں بھی در نبیﷺ کا چھوڑ کر
مجھ کو کوئے مصطفٰیﷺ کی چاکری اچھی لگی
یوں تو کہنے کو گزاری زندگی میں نے مگر
جو در آقاﷺ پہ گزاری وہ گھڑی اچھی لگی
والہانہ ہو گئے جو تیرے قدموں پر نثار
حق تعالی کو ادا ان کی بڑی اچھی لگی
ناز کر تُو اے حلیمہ سرور کونینﷺ کو
گر لگی اچھی تو تیری جھونپڑی اچھی لگی
ساقئ کوثر کا جس کو مل گیا جام وِلا
کب اسے پھر میکدہ اور میکشی اچھی لگی
بے خودی میں کھینچ کے آ جاتے ہیں آقاﷺ کے غلام
محفل نعت نبیﷺ جس جا سجی اچھی لگی
رکھ دئیے سرکارﷺ کے قدموں پہ سلطانوں نے سر
سرور کون و مکاںﷺ کی سادگی اچھی لگی
دور رہ کر آستان سرور کونینﷺ سے
زندگی اچھی لگی نہ بندگی اچھی لگی
تھا مِری دیوانگی میں بھی شعور احترام
میرے آقاﷺ کو مری دیوانگی اچھی لگی
مہر و ماہ کی روشنی مانا کہ ہے اچھی
مگر سبز گنبد کی مجھے تو روشنی اچھی لگی
آج محفل میں نیازی نعت جو میں نے پڑھی
عاشقان مصطفٰیﷺ کو وہ بڑی اچھی لگی
عبدالستار نیازی
No comments:
Post a Comment