Sunday, 10 April 2022

تجھے تلاش ہے جس کی گزر گیا کب کا

 تجھے تلاش ہے جس کی گزر گیا کب کا

مِرے وجود میں وہ شخص مر گیا کب کا

جو مجھ میں رہ کے مجھے آئینہ دکھاتا تھا

مِرے بدن سے وہ چہرہ اتر گیا کب کا

طلسم ٹوٹ گیا شب کا میں بھی گھر کو چلوں

رکا تھا جس کے لیے وہ بھی گھر گیا کب کا

تجھے جو فیصلہ دینا ہے دے بھی مصنف وقت

وہ مجھ پہ سارے ہی الزام دھر گیا کب کا

نہ جانے کون سا پل ٹوٹ کر بکھر جائے

ہمارے صبر کا کشکول بھر گیا کب کا


صابر ادیب

No comments:

Post a Comment