ہجر کی اک رات، اور ہجر دوام لگتا ہے
ادھر آغاز محبت، ادھر قصہ تمام لگتا ہے
ہر بات سمجھنے میں بس اتنا سا تضاد ہوتا ہے
وہ سزا دیتے ہیں، مجھے انعام لگتا ہے
نہ ہم ملیں، نہ تم بلاؤ، نہ ہم مریں، نہ تم جیو
کچھ تو ہو کہ فسانۂ زندگی نا تمام لگتا ہے
پوچھا تھا جو اس نے زہر کا پیالہ دے کر
جسد میت نے پکارا تو ہو گا، جام لگتا ہے
انہی کے نام سے ہے اب اپنی شہرت عمر
کوئی نام لے تو نام بھی بے نام لگتا ہے
عمر فاروق
No comments:
Post a Comment