Thursday, 7 April 2022

جب مست ہوا لہراتی ہے

 جب مست ہوا لہراتی ہے

اک بدلی سی چھا جاتی ہے

معصوم فضا سو جاتی ہے

ساون کی گھٹا آ جاتی ہے

بے چین بہت ہو جاتا ہوں

یادوں میں کہیں کھو جاتا ہوں

جب ساری دنیا سوتی ہے

اور شبنم تنہا روتی ہے

پھولوں کے بدن کو دھوتی ہے

جس پر صدقے ہر موتی ہے

بے چین بہت ہو جاتا ہوں

یادوں میں کہیں کھو جاتا ہوں


ناشر نقوی 

No comments:

Post a Comment