Thursday, 14 April 2022

پلٹ کے آتی ہوئی دعاؤں کا مسئلہ ہوں

پلٹ کے آتی ہوئی دعاؤں کا مسئلہ ہوں

پتہ لگاؤ میں کن خداؤں کا مسئلہ ہوں

‏یہ ان کی مرضی مجھے نکالیں یا حل نکالیں

‏تِری وجہ سے میں شہر والوں کا مسئلہ ہوں

تمام شاخیں تمہارے رستے میں جھک چکی ہیں

میں آنے والے تمام لوگوں کا مسئلہ ہوں

جو ہو سکے تو نمازِ وحشت میں یاد رکھنا

میں تجھ سمیت اب کئی فرشتوں کا مسئلہ ہوں

‏مری رفاقت میں وہ کبھی خوش نہیں رہے ہیں

‏میں دشمنوں کا نہیں ہوں یاروں کا مسئلہ ہوں


عادل کہاوڑ

No comments:

Post a Comment