Thursday, 14 April 2022

میں ایک نقطے پہ مشتمل ہوں میں واقعہ ہوں

 میں ایک نقطے پہ مشتمل ہوں

میں واقعہ ہوں

ردیف ہوں نہ میں قافیہ ہوں

میرے تصور کے بین لفظوں کو چیرتے ہیں

میں اپنے موضوع پہ فاتحہ ہوں

سمندروں نے اچھال پھینکی ہے جو کہانی

میں اس کہانی کا مرثیہ ہوں


سمعیہ ملک

No comments:

Post a Comment