ہم تِرے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں
اس قدر پاس نہ آ، دور نہ ہو جائیں کہیں
مت ہنسا اس قدر اے نوبتِ حالات ہمیں
جو فقط زخم ہیں ناسور نہ ہو جائیں کہیں
آزمائش میں نہ ڈال اپنے لبوں سے مت بول
فرقتیں بھی ہمیں منظور نہ ہو جائیں کہیں
ہم تو عاشق ہیں، ہمارا تو چلو کام سہی
سجدے اس شہر کا دستور نہ ہو جائیں کہیں
آپ کے عشق میں ہم ہو تو گئے آپ ہی آپ
آپ کے نام سے مشہور نہ ہو جائیں کہیں
راحیل فاروق
No comments:
Post a Comment