گھر کے کونے میں کوئی طاق ہوا کرتا تھا
اک دیا اس پہ غضبناک ہوا کرتا تھا
تِرے چھو لینے سے پھولوں میں ہوا میرا شمار
ورنہ میں تو خس و خاشاک ہوا کرتا تھا
اب تو مٹی بھی مِرا جسم نہیں کرتی قبول
میں کبھی صاحبِ افلاک ہوا کرتا تھا
اس کو بھی دریا بہا لے گیا ہائے افسوس
گاؤں میں ایک ہی تیراک ہوا کرتا تھا
آج جو زہر کی مانند ہے دل میں اترا
یہی لہجہ کبھی تریاق ہوا کرتا تھا
عرش پر جب نہیں ہوتا تھا کوئی رب کے سوا
تب بھی اک سیدِ لولاک ہوا کرتا تھا
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment