Monday, 11 April 2022

پرانی یاد کی تعمیر ڈھانا بھول جاتا ہوں

 پرانی یاد کی تعمیر ڈھانا بھول جاتا ہوں

میں اک گھر سے نئے گھر کو بسانا بھول جاتا ہوں

نکل جاتا ہوں دریا پار پانی پاٹ کے لیکن

کنارے سے کنارے کو ملانا بھول جاتا ہوں

میں یاروں کی جفاؤں کو بیاں کرتے ہوئے اکثر

میں دشمن کی صداقت کو بتانا بھول جاتا ہے

مرے تن پر قبا زخموں کی ہر موسم بدلتی ہے

لبادہ اوڑھتا ہوں اور پرانا بھول جاتا ہوں


حمزہ ہاشمی سوز

No comments:

Post a Comment