پرانی یاد کی تعمیر ڈھانا بھول جاتا ہوں
میں اک گھر سے نئے گھر کو بسانا بھول جاتا ہوں
نکل جاتا ہوں دریا پار پانی پاٹ کے لیکن
کنارے سے کنارے کو ملانا بھول جاتا ہوں
میں یاروں کی جفاؤں کو بیاں کرتے ہوئے اکثر
میں دشمن کی صداقت کو بتانا بھول جاتا ہے
مرے تن پر قبا زخموں کی ہر موسم بدلتی ہے
لبادہ اوڑھتا ہوں اور پرانا بھول جاتا ہوں
حمزہ ہاشمی سوز
No comments:
Post a Comment