میں تیری آگ کے اندر اتر کے دیکھوں گا
جلوں گا اور کرشمے ہنر کے دیکھوں گا
تجھے پتا چلے آبِ رواں کو کیا دُکھ ہے
میں ایک دن تجھے چھاگل میں بھر کے دیکھوں گا
مِلاؤں گا نئے اجزا تِرے مُرکب میں
دوبارہ حُسن کی تشکیل کر کے دیکھوں گا
مِرا مزاج کُہستانی ہے، مگر پھر بھی
ہوا میں ریت کی صورت بکھر کے دیکھوں گا
ہمیشہ میں نے تجھے سرسری ہی دیکھا ہے
حجاب اٹھاؤں گا اور آنکھ بھر کے دیکھوں گا
تِری تہوں میں پڑا ہی نہیں رہوں گا میں
بس ایک جست بھروں گا، اُبھر کے دیکھوں گا
ہمیشہ متن کا کچھ حصہ چھوٹ جاتا ہے
سو آج شب تِری تلخیص کر کے دیکھوں گا
رفیق سندیلوی
No comments:
Post a Comment