نہیں تجھ کو یہ اندازہ نہیں ہے
قیامت صرف آوازہ نہیں ہے
میں پہلے بھی محبت کر چکا ہوں
سمجھ لے، گل تر و تازہ نہیں ہے
بس اتنا سوچ کر دل میں قدم رکھ
نکل جانے کا دروازہ نہیں ہے
زمیں کے ساتھ گردش میں ہوں، میں بھی
یہ قربانی ہے،۔ خمیازہ نہیں ہے
صبا نے چوم کر کلیوں سے پوچھا
گلوں کے رخ پہ کیوں غازہ نہیں ہے
ڈریں کیوں وہ بکھر جانے سے، جن کا
بہم پہلے ہی شیرازہ نہیں ہے
ممتاز گورمانی
No comments:
Post a Comment