Tuesday, 5 April 2022

نہیں تجھ کو یہ اندازہ نہیں ہے

 نہیں تجھ کو یہ اندازہ نہیں ہے

قیامت صرف آوازہ نہیں ہے

میں پہلے بھی محبت کر چکا ہوں

سمجھ لے، گل تر و تازہ نہیں ہے

بس اتنا سوچ کر دل میں قدم رکھ

نکل جانے کا دروازہ نہیں ہے

زمیں کے ساتھ گردش میں ہوں، میں بھی

یہ قربانی ہے،۔ خمیازہ نہیں ہے

صبا نے چوم کر کلیوں سے پوچھا

گلوں کے رخ پہ کیوں غازہ نہیں ہے

ڈریں کیوں وہ بکھر جانے سے، جن کا

بہم پہلے ہی شیرازہ نہیں ہے


ممتاز گورمانی

No comments:

Post a Comment