Tuesday, 19 April 2022

عشق کرتا ہوں تو پھر عشق میں حد کرتا ہوں

 عشق کرتا ہوں تو پھر عشق میں حد کرتا ہوں

میں منافق تو نہیں، کھل کے حسد کرتا ہوں

سن ہی سکتا نہیں اک لفظ محبت کے خلاف

اس میں اب دل کی دلیلوں کو بھی رد کرتا ہوں

جو بھی عجلت میں ہو اس کو دے دیتا ہوں رستہ

میں تو صحراؤں میں مجنوں کی مدد کرتا ہوں

عمر تحصیلِ ہوس میں میری گزری ہے عطا

اب تو جاری میں محبت کی سند کرتا ہوں


احمد عطاءاللہ

No comments:

Post a Comment