ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی
میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی
سڑکوں پہ سرد رات رہی میری ہمسفر
آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی
یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر
خوشبوکے انتظار میں شب بھیگتی رہی
وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا شکیل
سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی
شکیل اختر
یہ غزل قتیل شفائی کی ہرگز نہیں ہے! یہ شکیل اختر کی شہرہ آفاق غزل ہے. براہ مہربانی تصحیح کر لیں... شکریہ
ReplyDeleteڈاکٹر فیصل ودود جی تصحیح کے لیے تہ دل سے مشکور ہوں، اپڈیٹ کر دیا ہے۔
Delete