Saturday, 16 April 2022

ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی

 ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی

میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی

اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر

پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

سڑکوں پہ سرد رات رہی میری ہمسفر

آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی

یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر

خوشبوکے انتظار میں شب بھیگتی رہی

وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا شکیل

سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی


شکیل اختر

2 comments:

  1. یہ غزل قتیل شفائی کی ہرگز نہیں ہے! یہ شکیل اختر کی شہرہ آفاق غزل ہے. براہ مہربانی تصحیح کر لیں... شکریہ

    ReplyDelete
    Replies
    1. ڈاکٹر فیصل ودود جی تصحیح کے لیے تہ دل سے مشکور ہوں، اپڈیٹ کر دیا ہے۔

      Delete