Friday, 12 August 2022

دل مضطرب ٹھہر جا یہ مقام عاشقی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دلِ مضطرب ٹھہر جا یہ مقامِ عاشقی ہے

یہاں زندگی ہے لیکن وہاں اوجِ زندگی ہے

تیرے گھر کے سامنے ہے یہ میرا وجود فانی

جو نہ بجھ سکی ابھی تک تو یہ کیسی تشنگی ہے

وہاں جا کے میں نے جانا وہاں جا کے میں نے سمجھا

میری زندگی نے کی جو میرے ساتھ دل لگی ہے

سنی ہر دعا خدا نے درِ مصطفیٰؐ کے صدقے

بھلا اس سے اور آگے کیا مقامِ بندگی ہے

مجھے شوق بندگی ہے انہیں ذوقِ آگہی ہے

درِ مصطفیٰﷺ سے پائی ممتاز سادگی ہے


ممتاز ملک

No comments:

Post a Comment