عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں کہاں فن کہاں کمال کہاں؟
نعت لکھوں، مِری مجال کہاں؟
عشق انﷺ کا مسرتِ ابدی
اب میں آزردۂ ملال کہاں؟
ہم تو ہیں منزلِ حضوری میں
سفرِ فرقت و وصال کہاں؟
ان کا ہر حکم، اک اٹل قانون
حکمِ حاکم میں قیل و قال کہاں؟
شہرِ طیبہ میں، ارضِ ملتاں میں
کیا خبر؟ ہو گا انتقال کہاں؟
جب اسےؐ لوگ دیکھ سکتے تھے
لے اڑا طائرِ خیال کہاں؟
میری آنکھیں تو ہیں مِری آنکھیں
تیراﷺ نظارۂ جمال کہاں؟
جھولیاں بھر رہی ہیں آپ ہی آپ
یعنی گنجائشِ سوال کہاں؟
ہم تو جنت ہی جائیں گے عاصی
نارِ دوزخ کا احتمال کہاں؟
عاصی کرنالی
No comments:
Post a Comment