Saturday, 10 June 2023

دے گیا ہے مجھے اک مرد قلندر یہ پیام

 دے گیا ہے مجھے اک مردِ قلندر یہ پیام

مردِ مومن ہے تو اندیشۂ باطل ہے حرام

تُو ہے خود عاصئ افکار کا اپنے نخچیر

ہے عبث شکوۂ بے مہری وجورِ ایام

کبھی آفاق میں گم ہے کبھی اوہام میں گم

وائے بے ربطی کہ برہم ہے تِرا سارا نظام

پیروِ مسلکِ اربابِ نظر ہو کے تو دیکھ

مہر تاباں، مہ و انجم ہیں سبھی تیرے غلام

تُو ہے وہ مردِ مجاہد کہ نظر بھی تیری

خنجر و تیر و سناں نیزہ و شمشیر و حسام

بن کے محتاج نہ کر اپنی خودی کو رُسوا

کر سحر اپنی سحر شام کو کر اپنی شام

اس جہاں کو نہ سمجھ لے تو نشیمن اپنا

درحقیقت ہے کہیں اس سے سوا تیرا مقام

حق سے غافل ہے تُو ہر سانس گُنہگار تِری

دُھن میں اس کی ہے اگر زیست عبادت ہے تمام

چشم بینا ہے تو ہر نخلِ شجر شعلۂ طور

دل ہے بیدار تو ہر تارِ نفس اک الہام

دردِ دل آر بدستے کہ بجز سوزِ دروں

ہمہ بے معنی و بے روح چہ سجدہ چہ قیام

مذہبِ فقر ہو یا شرعِ محبت اس میں

عیشِ منزل بھی غلط عشرتِ ساحل بھی حرام

جس کی محمود حکومت ہو دلوں پر سب کے

فتح اُس کی ہے، وہی سارے زمانے کا امام


سید ابوالفضل محمود قادری 

No comments:

Post a Comment