اندر کے آدمی کی نوا کون لے گیا
سرمایہ ضمیر و انا کون لے گیا
وہ غم جسے سمجھتا تھا میں حاصل حیات
اس میرے غم کو آج چرا کون لے گیا
دستِ دعا تو اب بھی اٹھاتا ہوں میں مگر
لفظوں سے میرے روح دعا کون لے گیا
ہر شخص اب کے شہر میں عریاں ملا مجھے
کچھ تو بتاؤ، ان کی قبا کون لے گیا
جلتا ہوں غم کی سخت حرارت سے روز و شب
انسانیت کے سر سے ردا کون لے گیا
آتش میں نفرتوں کی جلا ہے ہر ایک شخص
پہلی سی الفتوں کی ردا کون لے گیا
کاوش میں سوچتا ہوں وہ اقدار کیا ہوئیں
چاہت، خلوص اور وفا کون لے گیا
محمود احمد کاوش
No comments:
Post a Comment