جانے کس اوج پہ جاتا ہے جنُوں، کس سے کہوں
آگ پہلے تو نہ تھی خُون میں یوں، کس سے کہوں
کس نے دن تِیرہ کیے، پڑھ کے اندھیروں کا طلسم
لوگ ہیں سب اسی کے زیرِ فسُوں، کس سے کہوں
سنگ سے قلب، چٹانوں کی سماعت پِگھلائے
گرم اتنا بھی نہیں سوزِ درُوں، کس سے کہوں
کیا خُوش انداز تھی یہ کشتہ نگارِ تہذیب
ہو چکا ہے مِری آواز کا خُوں، کس سے کہوں
سر عجب شان سے حرفوں نے اُٹھایا دل میں
وائے منذر کہ مِرا سر ہے نِگوں، کس سے کہوں
محمد منذر رضا
No comments:
Post a Comment