عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حج کا موسم میرے سینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
دل مرا مکّے، مدینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
ہوں منٰی میں،۔ کبھی عرفات میں،۔ مزدلفہ میں
لطف فردوس کا، جینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
زائرو! میں بھی ہوں ہمراہ تمہارے، اس بار
عمر ذالحج کے مہینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
کر رہا ہوں میں تصوّر میں جو کعبے کا طواف
روح رحمت کے سفینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
سنگِ اسود کو، کبھی جالیوں کو چھوتا ہے
ہاتھ رحمت کے خزینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
رات کے پچھلے پہر دل ہی مِرا جانتا ہے
کیف زم زم کا جو پینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
شکر ہے ربِّ محمدﷺ کا، مِرا دل، مِری آنکھ
نعت کے صدقے، مدینے میں ہے گھر بیٹھے ہوئے
ریاض مجید
No comments:
Post a Comment