تِری خوشبو پہ وارے جا چکے ہیں
ہمارے لوگ مارے جا چکے ہیں
کسی گھر سے دُھواں اُٹھتا نہیں ہے
یہی لگتا ہے سارے جا چکے ہیں
بہت مشکِل ہے اب پہچان کرنا
بہت سے رُوپ دھارے جا چکے ہیں
یہ ہم جس زندگی کو جی رہے ہیں
یہ لمحے تو گزارے جا چکے ہیں
یہ جھیلیں خُشک صحرا بن چکی ہیں
وہ خوابوں کے شکارے جا چکے ہیں
فقط حسرت کا ملبہ رہ گیا ہے
سبھی دریا کنارے جا چکے ہیں
اعجاز نعمانی
No comments:
Post a Comment