Friday, 6 November 2015

جو دیکھتا ہے مجھے آئینہ کے اندر سے

جو دیکھتا ہے مجھے آئینہ کے اندر سے
وہ کون ہے کوئی پوچھے بھی اس ستمگر سے
سکوٹ ٹوٹ گیا خامشی کے جنگل کا
مِری صدائیں اٹھیں اس طرح مِرے گھر سے
میں ایک تنکے کی صورت ہمیشہ بہتا رہا
مجھے مفر نہ ملا وقت کے سمندر سے
مِرے دیار میں ماضی کی جو تھیں تصویریں
سبھوں تو توڑ دیا میں نے آج پتھر سے
تمام رات کوئی بھی نہ تھا مِرے گھر میں
لِپٹ کے سوئی تھی تنہائی میرے بستر سے

شاہد کلیم

No comments:

Post a Comment