پہلے چھیڑوں گا کہانی میں زمانے والی
پھر بتاؤں گا تمہیں بات بتانے والی
تم جو اجلت میں جئے جاتے ہو دنیا والو
اتنی جلدی بھی قیامت نہیں آنے والی
مل گئی ہے تو محبت میں اسے صَرف کروں
کسی تلوار سے کم بھی نہیں میرا یہ قلم
پھر یہ تلوار نہیں خون بہانے والی
میرے سوئے ہوئے جذبوں کو جگا دیتی ہے
کوئی آواز کہیں دور سے آنے والی
اس لیے ہو گئی دنیا مِری دشمن تیمور
میں نے بات بتا دی تھی، چھپانے والی
تیمور حسن تیمور
No comments:
Post a Comment