Thursday, 3 November 2016

میرا خوں تک جلا دیجیے

میرا خوں تک جلا دیجئے
پر اندھیرا مٹا دیجئے
دوسروں سے تو لڑ لونگا میں
خود سے لڑنا سکھا دیجئے
میں عدالت میں سچ کہہ گیا
مجھ کو اس کی سزا دیجئے
اس زمانے کا منصور ہوں
مجھ کو سُولی چڑھا دیجئے
دل نے پھر کی تمنا کوئی
دے کے تھپکی سُلا دیجئے
آپ کو بھول سکتا نہیں
آپ چاہے بھلا دیجئے
کٹ ہی جائے گی تیمورؔ شب
دل کو کچھ حوصلہ دیجئے

تیمور حسن تیمور

No comments:

Post a Comment