Thursday, 3 November 2016

یاد کی خوشبو

یاد کی خوشبو 
(گلزار کے لیے)

تم جس خواب کا جادو لے کر
اپنے گیت بناتے ہو
تم جس آنکھ سے آنسو بن کر
اپنا درد بہاتے ہو
بادل جیسے رندھ رندھ آتے ہو
تم جس یاد کی خوشبو سے
اپنی شام سجاتے ہو
لفظوں کو مہکاتے ہو
تم جس پیڑ کی چھاؤں اوڑھے
دِینہ نام کا گاؤں اوڑھے
رستہ رستہ، مٹی مٹی
اگتے اور اگاتے ہو
دھوپ میں پھول کھلاتے ہو
برکھا، باد، پرندا اور چھتری بن جاتے ہو
میں اس خواب کے جادو
آنکھ کے آنسو
یاد کی خوشبو
اور اس پیڑ کی چھاؤں سے
دور دراز کے رستوں اور دِشاؤں سے
بارشوں اور ہواؤں سے
ایک سنہری نظم بنا کر
روز تمہارے شہر کی اور روانہ کرتا ہوں
ملنے کا بہانہ کرتا ہوں

نصیر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment