Wednesday, 14 December 2016

لایا تمہارے پاس ہوں یا پیر الغیاث

لایا تمہارے پاس ہوں یا پیر الغیاث
کر آہ کے قلم سے میں تحریر الغیاث 
لاہوت سے اوتر کے ہوں ناسوت میں پڑا
کیا کچھ ہوئی مقام کی تغیر الغیاث
حرص و ہوا سے نفس ہے زنجیر پائے دل
پاتا نہیں نجات کی تدبیر الغیاث
سوز و گداز آہ و تپش نالہ و فغاں
سب کچھ ہوئے ولے نہیں ولے نہیں تاثیر الغیاث
عاجز ہوں اور بے کس و ناچار و ناتواں
مضمونِ آہِ دل کی ہے تفسیر الغیاث
ہم آپ کے کہاتے ہیں یا پیر دستگیر
سن لو مرید اپنے کی یا پیر الغیاث
مشکل کشائے خلق ہو تم شاہِ اولیاء
ہے اس لیے تمہاری قفا گیر الغیاث
کرتے ہو مشکلاتِ جہاں ایک پل میں حل
کیوں حق میں میرے اتنی ہے تاخیر الغیاث
گر سن کے الغیاثِ نیازؔ آپ داد دیں
دنیا و دیں میں پاتی ہے توقیر الغیاث
یاغوثِ اعظم آپ سوا کون ہے مرا
کس کے کنے میں جا کروں تقریر الغیاث
دیکھو تو میں نیازؔ ہوں لے سر سے پاؤں تک
یا ہوں میں الغیاث کی تصویر الغیاث

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment