لایا تمہارے پاس ہوں یا پیر الغیاث
کر آہ کے قلم سے میں تحریر الغیاث
لاہوت سے اوتر کے ہوں ناسوت میں پڑا
کیا کچھ ہوئی مقام کی تغیر الغیاث
حرص و ہوا سے نفس ہے زنجیر پائے دل
سوز و گداز آہ و تپش نالہ و فغاں
سب کچھ ہوئے ولے نہیں ولے نہیں تاثیر الغیاث
عاجز ہوں اور بے کس و ناچار و ناتواں
مضمونِ آہِ دل کی ہے تفسیر الغیاث
ہم آپ کے کہاتے ہیں یا پیر دستگیر
سن لو مرید اپنے کی یا پیر الغیاث
مشکل کشائے خلق ہو تم شاہِ اولیاء
ہے اس لیے تمہاری قفا گیر الغیاث
کرتے ہو مشکلاتِ جہاں ایک پل میں حل
کیوں حق میں میرے اتنی ہے تاخیر الغیاث
گر سن کے الغیاثِ نیازؔ آپ داد دیں
دنیا و دیں میں پاتی ہے توقیر الغیاث
یاغوثِ اعظم آپ سوا کون ہے مرا
کس کے کنے میں جا کروں تقریر الغیاث
دیکھو تو میں نیازؔ ہوں لے سر سے پاؤں تک
یا ہوں میں الغیاث کی تصویر الغیاث
شاہ نیاز بریلوی
No comments:
Post a Comment