Wednesday, 14 December 2016

نیستی ہستی ہے یارو اور ہستی کچھ نہیں

نیستی،ہستی ہے یارو!، اور ہستی کچھ نہیں ​
بے خودی مستی ہے یارو اور مستی کچھ نہیں ​
لامکاں کی منزلت پاتا ہے کب کون و مکاں​
 ہُو کے ویرانے کے آگے ہے کی بستی کچھ نہیں ​
کچھ نہیں سب کچھ ہے یارو اور سب کچھ کچھ نہیں ​
غیر اس کے معنی رمز الستی کچھ نہیں ​
یہ جو کچھ ہونا جسے کہتے ہیں، پستی ہے میاں​
فقر میں پستی یہی ہے، اور پستی کچھ نہیں ​
ؔبندگی اور حق پرستی، کچھ نہ ہونا ہے نیاز
کچھ نہ ہونے کے سوا اور حق پرستی کچھ نہیں ​
شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment