Wednesday, 14 December 2016

کافر عشق ہوں میں بندۂ اسلام نہیں

کافرِ عشق ہوں میں بندۂ اسلام نہیں
بت پرستی کے سوا اور مجھے کام نہیں
عشق میں پوجتا ہوں قبلہ و کعبہ اپنا
ایک پَل دل کو مِرے اسکے بن آرام نہیں
ڈھونڈھتا ہے تو کدھر یار کو میرے اے ماہ
منزلش در دلِ ما ہست لبِ بام نہیں
بوالہوس عشق کو تو خانۂ خالہ مت بوجھ
اس کا آغاز تو آساں ہے، پہ انجام نہیں
پھانسنے کو دلِ عشاق کے الفت بس ہے
گھیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیں
کام ہو جائے تمام کا پڑے جس پہ نگاہ
کشتۂ چشم کو پھر حاجتِ صمصام نہیں
ابر ہے جام ہے مینا ہے مۓ گلگوں ہے
ہے سب اسبابِ طرب ساقئ گلفام نہیں
ہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یوں فصلِ بہار
کیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیں
جان جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسمِ گل
ہجر و فرقت کا میری جان پہ ہنگام نہیں
دل کے لینے ہی تلک مہر کی تھی ہم پہ نگاہ
پھر جو دیکھا تو بجز غصہ و دشنام نہیں
رات دن غم سے تِرے ہجر کے لڑتا ہے نیازؔ
یہ دل آزاری مِری جان بھلا کام نہیں

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment