میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے
تم کو سناتا ہوں، دیکھو کیسا لگتا ہے
جسم کو کر ڈالا ہے خواہش کا ہرکارہ
چہرے پر مصنوعی وقار سجا رکھا ہے
سُونی کر ڈالی ہے بستی خواب نگر کی
ہونٹوں سے زنجیرِ خموشی باندھ رکھی ہے
طاقِ امید پہ دل کا چراغ بجھا رکھا ہے
نیند سے بوجھل پلکوں پر اندیشۂ مٹی
کشتئ جاں کے ڈوبنے کا لمحہ آیا ہے
جمال اویسی
No comments:
Post a Comment