گریز پا ہے نیا راستہ کدھر جائیں
چلو کہ لوٹ کے ہم اپنے اپنے گھر جائیں
نہ موجِ تند ہے کچھ ایسی جس سے کھیلیں ہم
چڑھے ہوئے ہیں جو دریا، کہو اتر جائیں
عجب قرینے کی مجنوں ہیں ہم کہ رہتے ہیں چپ
زمانہ تجھ سے یہ کہنا ہے مر چکے ہم لوگ
اب اپنی لاش تِرے بازوؤں میں دھر جائیں
جبیں ہے خاک سے ایسی لگی کہ اٹھتی نہیں
جنون سجدہ اگر ہو چکا تو مر جائیں
جمال اویسی
No comments:
Post a Comment