صدائے صورِ اسرافیل کا غم کھا گیا ہے
ہمیں اپنی عدم تکمیل کا غم کھا گیا ہے
غمِ ابلاغ میں ہم لوگ آدھے رہ گئے ہیں
مکمل سوچ کی ترسیل کا غم کھا گیا ہے
بہ سطحِ چرخِ کوزہ گر تڑپتا ہے جو پیکر
ہمارے دکھ پہ وہ رویا تو یوں سمجھو کہ گویا
کوئی قابیل تھا،۔۔ ہابیل کا غم کھا گیا ہے
جنوں کب تک ڈھلے گا بوند بوند اختؔر غزل میں
اسی پیرایۂ تنزیل کا غم کھا گیا ہے
اختر عثمان
No comments:
Post a Comment