Wednesday, 14 December 2016

آتش ہو اور معرکۂ خیر و شر نہ ہو

آتش ہو اور معرکۂ خیر و شر نہ ہو
پروانگی عبث ہے جو رقصِ شرر نہ ہو
یہ کارِ عشق بھی ہے عجب کارِ ناتمام
سمجھیں کہ ہو رہا ہے مگر عمر بھر نہ ہو
اک لمحۂ کمال کہ صدیوں پہ پھیل جائے
اک لحظۂ وصال مگر مختصر نہ ہو
اک دشتِ بے دلی میں لہو بولنے لگے
ایسے میں ایک خواب کہ تُو ہو مگر نہ ہو
چہرے پہ سائے میں بھی خراشیں دکھائی دیں
آئینۂ حیات پہ اتنی نظر نہ ہو
اک آستاں کہ جس پہ ابد تک پڑے رہیں
اک گلستاں کہ جس میں صبا کا گزر نہ ہو
مٹی تغارچوں میں پڑی سوکھتی رہے
پیکر تراشنے کے لیے کوزہ گر نہ ہو
اک یادِ خوش جمال جواز حیات ہے
اک محور خیال ہے یہ بھی اگر نہ ہو
اک لفظ جس کی لَو میں دمکتا رہے دماغ
اک شعر جس کی گونج کہیں پیشتر نہ ہو
اک بات کی چڑھائی کہ دَم ٹوٹنے لگیں
کہنے کا شوق ہو مگر اتنا ہنر نہ ہو
ایسا بھی کیا کہ یاد لہو میں گھلی رہے
ایسا بھی کیا کہ عمرِ گزشتہ بسر نہ ہو
یوں خطِ ہجر کھینچئے اپنے اور اس کے بیچ
دونوں طرف کی سانس اِدھر سے اُدھر نہ ہو
دونوں طرف کا شور برابر سنائی دے
دونوں طرف کسی کو کسی کی خبر نہ ہو
اک شام جس میں دل کا سبوچہ بھرا رہے
اک نام جس میں درد تو ہو، اس قدر نہ ہو
شام آئے اور گھر کے لیے دل مچل اٹھے
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو

اختر عثمان

No comments:

Post a Comment