Monday, 19 December 2016

اگر چٹان کی یہ چپ کلام ہے سائیں

اگر چٹان کی یہ چپ کلام ہے سائیں
تو پھر ہماری سماعت ہی خام ہے سائیں
تہی ہے زر سے مگر ہے خمار سے لبریز
فقیر کا یہی کشکول،۔ جام ہے سائیں
بجا کہ شہر میں ارزاں بہت ہیں خواب مگر 
یہاں تو نیند ہی ہم پر حرام ہے سائیں
یہ عرصہ گاہِ غزل اس قدر بھی تنگ نہیں 
ہماری فکر ہی کچھ بے لگام ہے سائیں
مِرے مکاں کے یہی دو نشاں نمایاں ہیں
زمیں ہے فرش، فلک اس کا بام ہے سائیں
ہمارا ذہن تو آزاد ہے، نہیں کب تھا
مگر خیال زباں کا غلام ہے سائیں
ہمیں وہ سلطنتِ حرف کے شہنشہ ہیں 
رفیق رازؔ ہمارا ہی نام ہے سائیں

رفیق راز

2 comments: