اگر چٹان کی یہ چپ کلام ہے سائیں
تو پھر ہماری سماعت ہی خام ہے سائیں
تہی ہے زر سے مگر ہے خمار سے لبریز
فقیر کا یہی کشکول،۔ جام ہے سائیں
بجا کہ شہر میں ارزاں بہت ہیں خواب مگر
یہ عرصہ گاہِ غزل اس قدر بھی تنگ نہیں
ہماری فکر ہی کچھ بے لگام ہے سائیں
مِرے مکاں کے یہی دو نشاں نمایاں ہیں
زمیں ہے فرش، فلک اس کا بام ہے سائیں
ہمارا ذہن تو آزاد ہے، نہیں کب تھا
مگر خیال زباں کا غلام ہے سائیں
ہمیں وہ سلطنتِ حرف کے شہنشہ ہیں
رفیق رازؔ ہمارا ہی نام ہے سائیں
رفیق راز
بہت خوبصورت شاعری ۔۔۔
ReplyDeleteپسندیدگی کے لیے شکریہ
Delete