جب بھی ہم چاند اگانے نکلے
لوگ سمجھے کہ دِوانے نکلے
دن ڈھلا، پینے پلانے نکلے
خود کو پھر خود سے چھپانے نکلے
بات بے بات بھی چھیڑیں باتیں
لوگ الجھے رہے تقدیروں سے
ہم تِری زلف سجانے نکلے
گاؤں سے شہر نیا تھا، لیکن
سارے دکھ درد پرانے نکلے
صابر دت
No comments:
Post a Comment