Sunday, 18 December 2016

تم کیسی محبت کرتی ہو؟ لڑکے کی طرف سے

تم کیسی محبت کرتے ہو؟
(لڑکے کی طرف سے)

میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟
تم جہاں پہ بیٹھ کے جاتی ہو
جس چیز کو ہاتھ لگاتی ہو
میں وہیں پے بیٹھا رہتا ہوں
اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
تم جس سے ہنس کر ملتی ہو
میں اس کو دوست بناتا ہوں
تم جس رستے پر چلتی ہو
میں اس سے آتا جاتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
تم جن کو دیکھتی رہتی ہو
وہ خواب سہانے رکھتا ہوں
تم سے ملنے جلنے کے
میں لاکھ بہانے رکھتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
کچھ خواب سجا کر آنکھوں میں
پلکوں سے موتی چنتا ہوں
کوئی لمس اگر چھو جائے تو
میں پہروں اس کو سوچتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
جن لوگوں میں تم رہتی ہو
تم جن سے باتیں کرتی ہو
تم جن سے ہنس کر ملتی ہو
تم جن سے باتیں کرتی ہو
جو تم کو اچھے لگتے ہیں
وہی مجھکو اچھے لگتے ہیں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
جس باغ میں صبح جاتی ہو
جس سبزے پر تم چلتی ہو
جو شاخ تمہیں چھو جاتی ہے
جو خوشبو تم کو بھاتی ہے
وہ اوس تمہارے چہرے پر
جو قطره قطره گرتی ہے
جو تتلی چھوڑ کے پھولوں کو
جو تم سے ملنے آتی ہے
جو تم کو چھونے آتی ہے
ان سب کے نازک جذبوں میں
میرے دل کی دھڑکن بستی ہے
میری روح بھی شامل رہتی ہے
تم پاس رہو یا دور رہو
نظروں میں سمائی رہتی ہو
میں تم کو تکتا رہتا ہوں
میں تم کو سوچتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتی ہو؟
جس کالج میں تم پڑھتی ہو
جس کلاس میں بھی تم جاتی ہو
جس کرسی پر تم بیٹھتی ہو
جب کلاس وہ خالی ہوتی ہے
میں وہیں پے جا کے بیٹھتا ہوں
اس کرسی کو میں چھوتا ہوں
وہ گدلا سا ٹِشو پیپر
جو تم نے کلاس میں چھوڑا تھا
میں پیار سے اس کو چھوتا ہوں
پھر اس کو پرس میں رکھتا ہوں
وو کاپی جس میں لیکچر کے
تم پوائنٹ لکھتی رہتی ہو
ہر موقعے پر ہر منظر میں
میں ساتھ تمہارے رہتا ہوں
میں چشم تصور میں اکثر
بس تم کو دیکھتا رہتا ہوں
بس تم کو سوچتا رہتا ہوں
میں ایسی محبت کرتا ہوں
تم کیسی محبت کرتے ہو؟

خلیل اللہ فاروقی

No comments:

Post a Comment