Sunday, 18 December 2016

اب بھی ہر دسمبر میں

اب بھی ہر دسمبر میں

مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ
کس لیے دسمبر میں
یوں اداس پھرتا ہوں 
کوئی دکھ چھپاتا ہوں
یا کسی کے جانے کا
سوگ پھر مناتا ہوں

آپ میرے البم کا صفحہ صفحہ دیکھیں گے
آئیے دکھاتا ہوں، ضبط آزماتا ہوں
سردیوں کے موسم میں گرم گرم کافی کے
چھوٹے چھوٹے سِپ لے کر
کوئی مجھ سے کہتا تھا 
ہائے اس دسمبر میں کس بلا کی سردی ہے
کتنا ٹھنڈا موسم ہے، کتنی یخ ہوائیں ہیں
آپ بھی عجب شے ہیں
اتنی سخت سردی میں ہو کے اتنے بے پروا
جینز اور ٹی شرٹ میں کس مزے سے پھرتے ہیں
شال بھی مجھے دی، کوٹ بھی اوڑھا ڈالا 
پھر بھی کانپتی ہوں میں
چلیۓ اب شرافت سے پہن لیجیۓ سوئیٹر
آپ کے لیے بُن لیا تھا دو دن میں
کتنا مان تھا اس کو میری، اپنی چاہت پر

"اب بھی ہر دسمبر میں اس کی یاد آتی ہے"
گرم گرم کافی کے چھوٹے چھوٹے سِپ لیتی
ہاتھ گال پر رکھے حیرت و تعجب سے
مجھ کو دیکھتی رہتی اور مسکرا دیتی
شوخ و شنگ لہجے میں مجھ سے پھر وہ کہتی تھی
اتنے سرد موسم میں آدھی سلیوز کی ٹی شرٹ
میل شاون ازم ہے
کتنی مختلف تھی وہ
سب سے منفرد تھی وہ

خلیل اللہ فاروقی

No comments:

Post a Comment